حدیث نمبر: 3705
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟))، قَالَ: قَالُوا: مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، قَالَ: ((فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَأَرْسِلُوا إِلَى مَنْ حَوْلَ الْمَدِينَةِ فَلْيُتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ خالد بن ذکوان کہتے ہیں: میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے یومِ عاشورکے روزے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشوراء کے دن پوچھا تھا: تم میں سے کس کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے اور کسی نے نہیں رکھا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بقیہ دن کا روزہ پورا کرو اور مدینہ منورہ کے گرد و نواح میں بھی اعلان کرا دو کہ وہ بھی بقیہ دن کا روزہ رکھ لیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3705
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، لكن انظر الحديث بالطريق الثاني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27026 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27566»