الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ وُجُوبِ النِّيَّةِ فِي الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَحُكْمِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الصَّوْمُ فِي أَثْنَاءِ باب: رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر¤رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ، فَيَقُولُ: ((أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونِيهِ؟))، فَتَقُولُ: لَا، مَا أَصْبَحَ عِنْدَنَا شَيْءٌ كَذَاكَ، فَيَقُولُ: ((إِنِّي صَائِمٌ))، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ) فَقَالَتْ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَخَبَّأْنَاهَا لَكَ، قَالَ: ((مَا هِيَ؟))، قَالَتْ: حَيْسٌ، قَالَ: ((قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا))، فَأَكَلَ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں میرے ہاں تشریف لاتے اور پوچھتے: تمہارے ہاں کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے کھلا سکو؟ میں کہتی: جی نہیں، ہمارے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تو پھر میں روزے دار ہوں۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے کہا: ہمیں ایک ہدیہ دیا گیا تھا، ہم نے آپ کے لیے چھپا رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: حَیْس ہے، (یعنی کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج تو میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھا لیا۔
درج ذیل احادیث میں ایک انتہائی مسئلے کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ جس آدمی پر سحری کے وقت کے گزر جانے کے بعد روزہ فرض ہو، مثلا: سحری کا وقت گزر جانے کے بعد کسی وقت میں پاگل کی دیوانگی کا دور ہو جانا، بچے کا بالغ ہو جانا، کافر کا مشرّف باسلام ہونا اور رمضان کے چاند کے نظر آنے کی اطلاع موصول ہونا، ایسی صورتوں میں متعلقہ لوگ کیا کریں گے؟ درج ذیل احادیث میں ان سوالات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔