الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ خَاصًّا يَنْقُصُ الشَّهْرُ مَعَ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ باب: خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 3701
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) دنوں کی بہ نسبت (۲۹) ایام والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یوں تو اسلامی مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے یا (۳۰) دنوں، درج بالا روایات اور تجربات سے معلوم ہوا کہ رمضان اور ذوالحجہ بھی (۲۹، ۲۹) اور (۳۰، ۳۰) دنوں کے ہوتے رہتے ہیں، تو پھر درج ذیل حدیث کا کیا معنی ہو گا۔