الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ خَاصًّا يَنْقُصُ الشَّهْرُ مَعَ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ باب: خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 3700
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَلِكَ؟ لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید کہتے ہیں: کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! اس ماہ کا چاند تو (۲۹) تاریخ کو نظر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس پر تعجب کیوں ہو رہا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو روزے رکھے، ان میں (۳۰) ایام کی بہ نسبت (۲۹) دن والے رمضان کے مہینے زیادہ تھے۔