الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ خَاصًّا يَنْقُصُ الشَّهْرُ مَعَ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ باب: خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
حدیث نمبر: 3699
عَنِ ابْنِ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: یہ مہینہ (۲۹) دن کا پورا ہوچکا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پوری حدیثیوں ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نِسَائَ ہٗشَھْرًا،فَلَمَّامَضٰی تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ، اَتَاہُ جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: قَدْ بَرَّتْ یَمِیْنُکَ وَقَدْ تَمَّ الشَّھْرُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہکے لیے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جب (۲۹) دن گزر گئے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ’’آپ کی قسم پوری ہو گئی ہے،کیونکہ مہینہ گزر گیا ہے۔ (مسند احمد: ۱/ ۲۳۵)