الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ شَوَّالٍ باب: جب بادلوں کی وجہ سے شوال کا چاندنظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
حدیث نمبر: 3690
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ أَفْطِرُوا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ماہِ رمضان سے متصل پہلے روزے رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔