الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ رَمَضَانَ باب: جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
حدیث نمبر: 3685
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا))، قَالَ حَاتِمٌ: يَعْنِي عِدَّةَ شَعْبَانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو سابقہ ماہ کی (تیس کی) گنتی پوری کر لیا کرو، اور (ماہِ رمضان کی آمد سے) بالکل پہلے روزے نہ رکھا کرو۔ حاتم راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔