الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ ثُبُوتِ الشَّهْرِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ أَوْ إِكْمَالِ الْعِدَّةِ ثَلَاثِينَ إِنْ كَانَ باب: ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3684
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا))، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، ((وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا))، يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایک اُمِّیْ امت ہیں،ہم لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا جانتے ہیں، مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا، (یعنی۲۹ دنوں کا)۔ پھر فرمایا: مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ یعنی پورے (۳۰) دنوں کا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر دس کا اشارہ دے رہے تھے۔