حدیث نمبر: 3682
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ))، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) إِذَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَبْعَثُ مَنْ يَنْظُرُ، فَإِنْ رُئِي فَذَلِكَ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَطَرٌ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَطَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … آخر میں بیان شدہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا کے فعل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شک والے دن روزہ رکھنے کے قائل تھے، آنے والے تیسرے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3682
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4488»