الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ ثُبُوتِ الشَّهْرِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ أَوْ إِكْمَالِ الْعِدَّةِ ثَلَاثِينَ إِنْ كَانَ باب: ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3681
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ وَصُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، بلکہ اس وقت روزہ رکھو جب سابقہ مہینے کی گنتی پوری ہو جائے یا چاند نظر آ جائے، پھر روزے جاری رکھو، یہاں تک کہ رمضان کی گنتی پوری کر لو یا چاند دیکھ لو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر (۲۹) تاریخ کو چاند نظر آ جائے تو ٹھیک، وگرنہ (۳۰) دن مکمل ہو جانے کا انتظار کیا جائے۔