حدیث نمبر: 3679
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ قَالَ هَاشِمٌ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ، قَالَ: هَاشِمٌ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو بختری کہتے ہیں: ہم نے ذات ِ عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا، پھر ہم نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، جب اس نے سوال کیا: ہاشم کہتے ہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کی رؤیت کو لمبا کر دیا ہے، اگر بادل ہوں تو (شعبان) کی گنتی پوری کر لو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے پہلے جملے کے معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعبان کی مدت کو رمضان کا چاند نظر آنے تک لمبا کر دیا ہے، یعنی اگر کسی وجہ سے شعبان کی۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کو اسی ماہ کی۳۰ تاریخ سمجھ لی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3679
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3021»