الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ ثُبُوتِ الشَّهْرِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ أَوْ إِكْمَالِ الْعِدَّةِ ثَلَاثِينَ إِنْ كَانَ باب: ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3676
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناطلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چاند کو لوگوں کے اوقات کی علامت بنایا ہے، لہٰذا چاند دیکھ کر روزے شروع کیا کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔
وضاحت:
فوائد: … رمضان کے روزے، شعبان کے روزے، ذوالحجہ کے پہلے دس دن، یوم عاشورائ، حج، حج کے مہینوں، عید الفطر، عید الاضحی جیسی مہینوں سے متعلقہ اسلامی عبادات کے وقت کا تعین چاند کے ذریعے کیا جائے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَھِلَّۃِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ} … ’’لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادات) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے۔۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۸۹) وقت سے پہلے اسلامی کیلنڈر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تعین نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لیے ہر مہینے سے متعلقہ عبادت کا یہ تقاضا ہے کہ از سرِ نو اس ماہ کا چاند دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ چاند دیکھنے کا جو طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رائج تھا اور جدید مشینوں کی ایجاد سے پہلے تک جاری رہا، آج بھی اسی کے مطابق فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ افق کی فلمیں بنا کر ان میں چاند کو تلاش کرتے رہنا، سمندر کے پانی میں دیکھنے کا اہتمام کرنا، انتہائی حساس دور بینیں استعمال کرنا اور غروبِ آفتاب کے دو دو گھنٹے بعد چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی اطلاع دینا، افق پر بادلوں کے باوجود مختلف طریقوں سے کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر ان سب طریقوں میں تکلف پایا جاتا ہے۔