حدیث نمبر: 3667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ، خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا، وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: يَوشِكُ عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ أَنْ يَلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، فَلَا يَخْرُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْرُصُونَ فِي غَيْرِهِ، وَيَغْفِرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرُهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیل یہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3667
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام متفق علي ضعفه، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ اخرجه البزار: 963، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7904»