الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ باب: ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔