حدیث نمبر: 3665
عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ عُتْبَةُ هَابَهُ فَسَكَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي رَمَضَانَ تُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ: وَيُنَادِي فِيهِ مَلَكٌ: يَا بَاغِي الْخَيْرِ! أَبْشِرْ، وَيَا بَاغِي الشَّرِّ! أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک کے رمضان گزر جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … رمضان المبارک اس اعتبار سے منفرد مہینہ ہے کہ اس میں کئی لوگوں کو ان کے مزاج برائیوں سے دور کر کے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ نیکی کے متلاشی کو خوشخبری دینے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ آسانی کے ساتھ نیکیوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا، اور دوسرییہ کہ نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملے گا، اس پر مستزاد یہ کہ نیکیوں کا ماحول اور معاشرے سے طبعی شرم و حیا بھی راہِ راست پر چلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ برائی کو چاہنے والے کو آوازدینے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اب تو برائیوں سے رک جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، کیونکہیہ توبہ کی قبولیت کا زمانہ ہے اور مغفرت کے اسباب کے لیے مستعد ہو جانے کا وقت ہے، ایسے موسم میں تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اپنی برائیوں پر اڑا رہے۔
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3665
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19002»