الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ باب: ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ عُتْبَةُ هَابَهُ فَسَكَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي رَمَضَانَ تُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ: وَيُنَادِي فِيهِ مَلَكٌ: يَا بَاغِي الْخَيْرِ! أَبْشِرْ، وَيَا بَاغِي الشَّرِّ! أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ))۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک کے رمضان گزر جاتا ہے۔
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)