الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا فَأَكَلُوا فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا شَأْنُهُ؟))، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يُؤْكَلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا))۔ سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔