الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3652
عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: ((كُلِي))، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا، رُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔