الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3651
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ: فَيُشَفَّعَانِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔