حدیث نمبر: 3650
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ، قَالَ: ((عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ))، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: ((عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں روزے کو ہی افضل سمجھا کہ دونوں دفعہ اسی کا حکم دیا، جبکہ اس قسم کے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے سائلین کے لیے روزوںکے علاوہ دوسرے اعمال کی نشاندہی کی، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکیم تھے اور ایک طبیب کی طرح تھے، ہر انسان کی کیفیت کے مطابق دوا تجویز کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3650
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22501»