حدیث نمبر: 3648
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، وَلِأَهْلِ الصِّيَامِ بَابٌ يُدْعَوْنَ مِنْهُ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ))، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والوں کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہو گا، کہ ان کو جس سے داخل ہونے کی آواز دی جائے گا، روزے داروں کے لئے بھی ایک رَیَّان نامی مستقل دروازہ ہو گا، اس سے ان کو بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا،جسے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو گے۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میں ہر قسم کی عبادت بدرجۂ اتم موجود تھی، اس لیے امید ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے بلائے جانے والوں کی فہرست میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام بھی ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصيام / حدیث: 3648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 7، 12/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9799»