الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3646
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، قَالَ: يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ، هَلُمُّوا إِلَى الرَّيَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ، أُغْلِقَ ذَلِكَ الْبَابُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے ایک دروازے کا نام رَیَّان ہے، قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ اِدھر بابِ ریان کی طرف آ جاؤ، جب ان کا آخری بندہ گزر جائے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’رَیَّان‘‘ کے معانی سیر و سیراب کے ہیں،یہ ’’عَطْشَان‘‘ (پیاسے) کی ضد ہے، اس اعتبار سے روزے داروں کے دروازے کا لفظاً اور معنًییہی نام مناسب تھا۔