الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3640
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَصِيَامُهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑتا ہے،اس لیے اس کا روزہ بھی میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا، ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایسی عبادت ہے، جو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … روزے دار لوگوں سے متعلقہ ایک اہم گزارش یہ ہے کہ روزے کا تعلق صرف کھانے پینے کو ترک کر دینے سے نہیں ہے، غور کریں کہ روزے دار نہ شور مچا سکتا ہے اور نہ جاہلانہ گفتگو کر سکتا ہے، اگر کوئی اسے گالی دیتا ہے یا اس سے لڑتا ہے تو وہ یوں جواب دیتا ہے: میں تو روزہ دار ہوں، میں تو روزہ دار ہوں، اس وجہ سے میں گالی کا گالی کی صورت میں اور لڑائی کا جواب لڑائی کی صورت میں نہیں دوں گا۔ بھلا کیا ایسے روزہ داروں کا وجود ملتا ہے؟ الا ماشاء اللہ