الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّدَقَةِ الْجَارِيَةِ باب: صدقہ جاریہ کا بیان
حدیث نمبر: 3638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يُنْعِشُ لِسَانَهُ حَقًّا يُعْمَلُ بِهِ بَعْدِهِ إِلَّا أَجْرَى اللَّهُ عَلَيْهِ أَجْرَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثَوَابَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زبان کو ایسی نیکی کے لیے استعمال کرتا ہے کہ جس پر اس کے بعد بھی عمل کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ثواب سے نوازتا رہتا ہے اور قیامت کے روز اسے پورا پورا ثواب عطا کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ سیوطی نے مختلف احادیث سے ثابت ہونے والے دس ایسے اعمال کو نظم کی صورت میں پیش کیا ہے، جن کا ثواب انسان کو اس کے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، وہ اشعار درج ذیل ہیں: اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ لَیْسَیَجْرِیْ عَلَیْہِ مِنْ فِعَالٍ غَیْرِ عَشْرٍ
عُلُوْمٌ بَثَّھَا وَ دُعَائُ نَجْلٍ وَغَرْسُ النَّخْلِ وَ الصَّدَقَاتُ تَجْرِیْ
وِرَاثَۃُ مُصْحَفٍ وَرِبَاطُ ثغْرٍ وَحَفْرُ الْبِئْرِ اَوْاِجْرَائُ نَھْرٍ
وَبَیْتٌ لِّلْغَرِیْبِ بَنَاہُ یَأْوِیْ اِلَیْہِ اَوْبِنَائُ مَحَلِّ ذِکْرٍ
وَ تَعْلِیْمٌ لِقُرْآنٍ کَرِیْمٍ فَخُذْھَا مِنْ اَحَادِیْثَ بِحَصْرٍ
ترجمہ: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کو صرف دس اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے ایسا علم جو وہ لوگوں کو سکھا جائے، اولاد کی دعا، درخت لگانا، صدقہ جاریہ، قرآن کریم کی وراثت، اللہ کی راہ میں پہرہ دینا، کنواںکھدوا نا، نہر کھدوا دینا، کسی غریب کے لئے مکان بنا دینا،تاکہ وہ اس میںپناہ لے سکے یا ذکر ِ الٰہی کا محل بنا دینا قرآن مجید کی تعلیم دینا، لیجیے صرف یہ احادیث سے ثابت ہیں۔ صدقہ جاریہ کی تمام اقسام میت کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ‘‘
عُلُوْمٌ بَثَّھَا وَ دُعَائُ نَجْلٍ وَغَرْسُ النَّخْلِ وَ الصَّدَقَاتُ تَجْرِیْ
وِرَاثَۃُ مُصْحَفٍ وَرِبَاطُ ثغْرٍ وَحَفْرُ الْبِئْرِ اَوْاِجْرَائُ نَھْرٍ
وَبَیْتٌ لِّلْغَرِیْبِ بَنَاہُ یَأْوِیْ اِلَیْہِ اَوْبِنَائُ مَحَلِّ ذِکْرٍ
وَ تَعْلِیْمٌ لِقُرْآنٍ کَرِیْمٍ فَخُذْھَا مِنْ اَحَادِیْثَ بِحَصْرٍ
ترجمہ: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کو صرف دس اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے ایسا علم جو وہ لوگوں کو سکھا جائے، اولاد کی دعا، درخت لگانا، صدقہ جاریہ، قرآن کریم کی وراثت، اللہ کی راہ میں پہرہ دینا، کنواںکھدوا نا، نہر کھدوا دینا، کسی غریب کے لئے مکان بنا دینا،تاکہ وہ اس میںپناہ لے سکے یا ذکر ِ الٰہی کا محل بنا دینا قرآن مجید کی تعلیم دینا، لیجیے صرف یہ احادیث سے ثابت ہیں۔ صدقہ جاریہ کی تمام اقسام میت کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ‘‘