حدیث نمبر: 3635
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَرْبَعٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ، رَجُلٌ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا فَأَجْرُهُ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا عُمِلَ بِهِ، وَرَجُلٌ أَجْرَى صَدَقَةً فَأَجْرُهَا يَجْرِي عَلَيْهِ مَا جَرَتْ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَدْعُو لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے آدمیوں کو ان کی موت کے بعد بھی ثواب ملتا رہتا ہے: (۱)وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے انتقال کر گیا، (۲) وہ آدمی جو لوگوں کو علم سکھائے،تو جب تک اس پرعمل ہوتا رہے گا، اسے اجر ملتا رہے گا، (۳) وہ آدمی جو صدقہ کرے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے اجر و ثواب ملتا رہے گا اور (۴) وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے، جو اس کے حق میں دعا کرتی رہے۔

وضاحت:
فوائد: … پہلی صورت یعنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے اثرات بھی عام طور پر آدمی کے بعد باقی رہتے ہیں، اخلاص کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے سے بعد والے لوگوں ایمانی حرارت اور کافروں کے خلاف غیظ و غضب کے جذبات میں تیزی آتی ہے، ایمان والوں کی عملی زندگیوں میں تبدیلیاں آتی ہیں، وہ اسلام کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور دعوت و جہاد کے راستے کھلتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22674»