الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ السِّرِّ باب: مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 3633
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز میں قرآن پڑھنے والا اس آدمی کی مانند ہے جو اعلانیہ صدقہ کرتا ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا اس آدمی کی طرح ہے جو مخفی طور پر صدقہ کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی سرّی تلاوت افضل ہے، اگر کوئی آدمی ایسے مقام پر جہری تلاوت کرتا ہے، جہاں اس کو سننے یا دیکھنے والا کوئی بشر نہیں ہوتا تو اس کا حکم بھی سرّی تلاوت والا ہو گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، اجرو ثواب والے امور کو مخفی رکھنا چاہیے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗخَبْیئٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْیَفْعَلْ۔)) ’’جس میں عملِ (صالح) کو مخفی رکھنے کی استطاعت ہو تو وہ اسے مخفی ہی رکھے۔‘‘ (الخطیب فی ’’التاریخ‘‘:۱۱/۲۶۳،، والضیاء فی ’’الاحادیث المختارۃ‘‘: ۱/ ۳۹۶الخطیب فی ’’التاریخ‘‘:۱۱/۲۶۳، صحیحہ: ۲۳۱۳)
ریاکاری اور نمودو نمائش اعمالِ صالحہ کو راکھ کر دینے والے عناصر میں سے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے اعمال کو مخفی رکھے، مثلا صدقہ و خیرات کرنا، نفلی نماز پڑھنا، حج وعمرہ کرنا، نفلی روزے رکھنا۔ لیکنیہیادرہے کہ جن اعمال کا تعلق جماعت سے یا لوگوں سے ہے، ان میں کوئی اخفاء نہیں ہے، مثال کے طور پرفرضی نماز، نمازِ عیدین، خوش خلقی، وغیرہ۔ عصرِ حاضر میں بعض نیکیوں کے موقعوں پر مبارکباد کے سلسلے میں اعمالِ صالحہ کی اتنی شہرت ہو جاتی ہے کہ عامل کے عمل کے ضائع ہونے کے خطرات و شبہات لاحق ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حج وعمرہ کے لیے روانگی اور واپسی کے موقع پر، قرآن مجید کا حفظ مکمل کرنے پر، رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل پر اور اعتکاف سے واپسی پر، عقیقہ کے موقع پر، وغیرہ وغیرہ۔ فی الحال ہمارے ہاں ان مواقع پر جو کچھ ہوتا ہے، شاید وہ روحِ اسلام کے منافی ہو۔
لَّکُمْ} ’’اگر تم صدقہ وخیرات کو ظاہر کرو تو وہ اچھا ہے اور اگر تم انہیں پوشیدہ طور پر مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہت اچھا ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے، سوائے کسی ایسی صورت کے کہ علانیہ صدقہ دینے میں لوگوںکے لیےترغیب کا پہلو ہو، اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضیلت حاصل کر سکتے ہیں، وہ احادیث سے واضح ہے، تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ و خیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ مخفیرکھنے کی فضیلت صرف نفلی صدقات تک محدود ہے،زکوۃ کی ادائیگی میں اظہار بہتر ہے، لیکن قرآن و حدیث کا عموم صدقات نافلہ اور واجبہ دونوں کو شامل ہے، اس لیے اگر اظہار و اعلان میں کوئی بڑی مصلحت نظر نہ آ رہی ہو تو سرّی عمل کو ہی ترجیح دی جائے۔
ریاکاری اور نمودو نمائش اعمالِ صالحہ کو راکھ کر دینے والے عناصر میں سے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے اعمال کو مخفی رکھے، مثلا صدقہ و خیرات کرنا، نفلی نماز پڑھنا، حج وعمرہ کرنا، نفلی روزے رکھنا۔ لیکنیہیادرہے کہ جن اعمال کا تعلق جماعت سے یا لوگوں سے ہے، ان میں کوئی اخفاء نہیں ہے، مثال کے طور پرفرضی نماز، نمازِ عیدین، خوش خلقی، وغیرہ۔ عصرِ حاضر میں بعض نیکیوں کے موقعوں پر مبارکباد کے سلسلے میں اعمالِ صالحہ کی اتنی شہرت ہو جاتی ہے کہ عامل کے عمل کے ضائع ہونے کے خطرات و شبہات لاحق ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر حج وعمرہ کے لیے روانگی اور واپسی کے موقع پر، قرآن مجید کا حفظ مکمل کرنے پر، رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل پر اور اعتکاف سے واپسی پر، عقیقہ کے موقع پر، وغیرہ وغیرہ۔ فی الحال ہمارے ہاں ان مواقع پر جو کچھ ہوتا ہے، شاید وہ روحِ اسلام کے منافی ہو۔
لَّکُمْ} ’’اگر تم صدقہ وخیرات کو ظاہر کرو تو وہ اچھا ہے اور اگر تم انہیں پوشیدہ طور پر مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہت اچھا ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ عام حالات میں خفیہ طور پر صدقہ کرنا افضل ہے، سوائے کسی ایسی صورت کے کہ علانیہ صدقہ دینے میں لوگوںکے لیےترغیب کا پہلو ہو، اگر ریاکاری کا جذبہ شامل نہ ہو تو ایسے موقعوں پر پہل کرنے والے جو خاص فضیلت حاصل کر سکتے ہیں، وہ احادیث سے واضح ہے، تاہم اس قسم کی مخصوص صورتوں کے علاوہ دیگر مواقع پر خاموشی سے صدقہ و خیرات کرنا ہی بہتر ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ مخفیرکھنے کی فضیلت صرف نفلی صدقات تک محدود ہے،زکوۃ کی ادائیگی میں اظہار بہتر ہے، لیکن قرآن و حدیث کا عموم صدقات نافلہ اور واجبہ دونوں کو شامل ہے، اس لیے اگر اظہار و اعلان میں کوئی بڑی مصلحت نظر نہ آ رہی ہو تو سرّی عمل کو ہی ترجیح دی جائے۔