حدیث نمبر: 3631
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، فَقَالَ: أَنَا أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا: (۱)عادل حکمران،(۲) وہ نوجوان، جو جوانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، (۳)وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے، (۴)وہ دو آدمی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، وہ اسی بنیاد پر جمع ہوئے او راسی پر ایک دوسرے سے الگ ہوئے، (۵)وہ آدمی جو اس قدر مخفی طور پر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ علم نہ ہو سکے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے، (۶)وہ آدمی، جس نے علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور (۷)وہ آدمی جسے منصب و جمال والی کوئی عورت اپنی طرف برائی کی دعوت دے، لیکن وہ یہ کہہ کر باز رہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … ’’جوانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ زندگی کا یہ مرحلہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزرنا چاہیے، عبادات ہوں یا معاملات، حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد، اپنوں کا مسئلہ ہو یا بیگانوں کا، صلہ رحمی کا مسئلہ ہو یا قطعی رحمی کا، دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا، ایسا نوجوان اپنی زندگی سے متعلقہ ہر چیز کو شریعت کی روشنی میں سر انجام دیتا ہے۔ قارئین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایسا جوان انتہائی آسان اور سہولت آمیز زندگی گزارتا ہے اور دلی فرحت و مسرت محسوس کرتا ہے۔ ’’وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے۔‘‘ یہ کسی بڑے عمل کا نام نہیں ہے، صرف ایک فکر کا نام ہے، دو آدمی نمازِ ظہر ادا کر کے اپنے کام کاج میں مصروف ہو گئے، پھر نمازِ عصر پر اکٹھے ہوئے، لیکن ان میں سے ایک کا دل مسجد سے لگا رہا اور دوسرا اس کا تصور ہی نہ کر سکا، پھر اول الذکر فرصت کے لمحات میں سے کچھ وقت مسجد میں بیٹھنے کے لیے صرف کرتا ہے، سیدھی سی بات یہ ہے کہ ایسی رغبت کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، یہ دل کی چاہت کامسئلہ ہے، جس سے عوام الناس کی اکثریت غافل ہے۔
دائیں کا خرچ کرنا اور بائیں کو علم نہ ہونا، یہ بات مبالغہ کے طور پر بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے بندے کو پتہ نہ چلے، اگر صدقہ کرنے والا ایسا طریقہ اختیار کرے کہ صدقہ لینے والے کو بھی پتہ نہ چلے تو یہ بہت بہتر ہو گا، مثلا منی آڈر وغیرہ کے ذریعے۔مخفی صدقہ اخلاص کے زیادہ قریب اور ریاکاری سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 660، 1423، ومسلم: 1031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9663»