الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ السِّرِّ باب: مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، فَقَالَ: أَنَا أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ))۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا: (۱)عادل حکمران،(۲) وہ نوجوان، جو جوانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، (۳)وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لگا رہے، (۴)وہ دو آدمی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، وہ اسی بنیاد پر جمع ہوئے او راسی پر ایک دوسرے سے الگ ہوئے، (۵)وہ آدمی جو اس قدر مخفی طور پر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی یہ علم نہ ہو سکے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے، (۶)وہ آدمی، جس نے علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور (۷)وہ آدمی جسے منصب و جمال والی کوئی عورت اپنی طرف برائی کی دعوت دے، لیکن وہ یہ کہہ کر باز رہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
دائیں کا خرچ کرنا اور بائیں کو علم نہ ہونا، یہ بات مبالغہ کے طور پر بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے بندے کو پتہ نہ چلے، اگر صدقہ کرنے والا ایسا طریقہ اختیار کرے کہ صدقہ لینے والے کو بھی پتہ نہ چلے تو یہ بہت بہتر ہو گا، مثلا منی آڈر وغیرہ کے ذریعے۔مخفی صدقہ اخلاص کے زیادہ قریب اور ریاکاری سے زیادہ دور ہوتا ہے۔