الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ إِعْطَاءِ الصَّدَقَةِ لِلصَّالِحِينَ - وَكَرَاهَةِ إِعْطَائِهَا لِلْقَلْقِلِينَ باب: نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3627
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا، فَلْيَرُدَّهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی صدقہ کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اگر اسے صرف بے دین قسم کا بندہ ہی ملے تو وہ اپنا صدقہ واپس لے جائے۔
وضاحت:
فوائد: … تالیف ِ قلبی کی نیت سے برے لوگوں بلکہ کافروں کی بھی صدقہ و زکوۃ سے امداد کی جا سکتی ہے، تالیف ِ قلبی کی صورتوں کی وضاحت حدیث نمبر (۳۴۶۷) والے باب میں ہو چکی ہے۔