حدیث نمبر: 3624
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَصَدَّقُوا))، قَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ))، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((أَنْتَ أَبْصَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’اب تو خود بہتر جانتا ہے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اس کے رشتہ داروں میں کون کس قدر محتاج ہے یا شریعت کی روشنی میں کس کو ترجیح دینی چاہیےیا دوسری نیکیوں کی کیا صورتحال ہے۔ اپنی بیوی بچوں سے اخراجات کا سلسلہ شروع کرنے سے ان کا پر تکلف طرزِ حیات مراد نہیں ہے، جیسا کہ آج کل اکثر لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں جتنی عبادات سر انجام دیں، ان میں سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ اخرجه ابوداود: 1691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7413»