الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الزَّوْجِ وَالْأَقَارِبِ وَتَقْدِيمِهِمْ عَلَى غَيْرِهِمْ وَمَرَاتِبِ الْمُسْتَحِقِّينَ باب: شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
حدیث نمبر: 3622
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب آدمی اپنی ذات اور بالخصوص اپنی اولاد، بیوی اور خادم پر خرچ کرے تو اس کے ذہن میں یہ تصور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے ماتحت افراد کی کفالت کر رہا ہے، ان اخراجات کو محض متعلقہ لوگوں کے مطالبات کا تقاضا نہیں سمجھنا چاہیے۔