حدیث نمبر: 3618
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ: ((مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ))، قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ، فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ وَلَا أَدْمَى يَعْبُرُ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَدَقَةً؟ قَالَ: ((نَعَمْ))، قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ، قَالَ: فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ؟ فَوَاللَّهِ! لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ، قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ((وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ)) ثَلَاثًا، قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا))، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجَاهِدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے۔‘‘اس کا مفہوم حریص ہونا اور معمولی مقدار کا ناکافی سمجھنا ہے۔ ان لوگوں کی مذمت ہے جو کثیر المال ہونے کے باوجود بخل کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مال کی کثرت کا تقاضا یہ ہے کہ صدقہ کی مقدار بھی زیادہ ہو، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3618
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عنه ابو السليل، واذا كان ھذا مجھولا فأبوه أو عمه مجھول مثله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20630»