حدیث نمبر: 3617
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلَعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارے مال کا صدقہ کرنے کا اظہار کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقدار کو کم کرنے کی ترغیب دی تھی، پھر ان کی بات مال کی ایک تہائی مقدار کو صدقہ کرنے پر طے ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو: بخاری: ۴۴۱۸، مسلم: ۲۷۶۹، ابوداود: ۳۳۲۱) زندگی میں نصف، دوتہائی بلکہ سارا مال بھی صدقہ کر دینا درست ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صدقہ وصول کرنے والا حاکم یا اس کا مسئول حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہو، وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس آدمی کا مزاج کیسا ہے، یہ بڑی مقدار میں صدقہ کرنے پر کیوں آمادہ ہو گیا ہے، بظاہر اس کے حق میں اس کا کیا انجام ہو گا، اس کے بعد اس کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، یہ کتنے اور کون کون سے لوگوں کا کفیل ہے، اِن چیزوں کو مدنظر رکھ کر حاکم خود ایک مقدار کا فیصلہ کر سکتاہے۔
مال خرچ کرنے والے کو اپنے ورثاء کا لحاظ رکھنا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس طرح چھوڑے کہ وہ تنگ دست اور فقیر ہوں۔ اور وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز کریں۔(بخاری: ۲۷۴۲، مسلم: ۱۶۲۸)
آپ نے یہ بھی فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی آدمی کے پاس مال باقی رہے۔ (بخاری: ۱۴۲۶)
صدقہ وصول کرنے والے کو بھی مال خرچ کرنے والے کے حالات کو سامنے رکھ کر اچھا مشورہ دینا چاہیے جیسا کہ صاحب فوائد فاضل بھائی نے بھی آگے لکھا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ (ترمذی: ۳۶۷۵)
سے سارا مال خرچ کرنے کا استدلال کرتے ہیں لیکن اس میں یہ ہے کہ انہوں نے گھر میں موجود سارا مال پیش کیا تھا نہ کہ گھر سمیت تمام جائیداد پیش کی تھی۔ اس لیے سارا مال خرچ کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3617
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسين بن السائب، روي عنه اثنان، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘۔ اخرجه ابوداود: 3319، 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16178»