الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَنْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِثُلُثِهِ وَمَنْ تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ باب: مال کا دسویں حصے، ایک تہائی حصے اور ایک اونٹنی کے صدقے کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ))۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔