حدیث نمبر: 3615
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ كَفَّرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … ان دو ابواب کی احادیث میں جتنے حقوق العباد کا ذکر کیا گیا ہے، اِس وقت امت ِ مسلمہ ان حقوق کی ادائیگی سے بری طرح غافل ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں کو اپنے سے کم تر خلق اللہ کے حقوق کا شعور ہی نہیں ہے، بیس بیس اور چالیس چالیس لاکھ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فکر کی گنجائش ہی نہیں کہ کس غریب کو سائیکل وغیرہ کی ضرورت ہے،، موٹر سائیکل اور رکشہ کی تو بات کرنا ہی فضول ہے، کن لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کیلئے دور دور سے پیدل چل کر آتے ہیں، کن گھروں کے بچے سکول فیس اور تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے گلی محلوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں، بلکہ مستقبل کے لیے خوشحال لوگوں کیلئے بڑا خطرہ کی علامت بھی ہیں۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، لوگوں نے اپنے ذہن کے مطابق چند عبادات کو حقیقی اسلام سمجھ لیا، اس سلسلے میں ان کے ذہنوں پر جمود سوار ہے، ان کو اپنی عادات میں تبدیلی لانا گوارا ہی نہیں ہے۔ لیکن جن لوگوں کے بارے میں یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں، سرے سے وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، کیونکہ جب تک ہم یہ حقیقت سمجھ نہیں پائیں گے کہ اسلام کا ہم سے مطالبہ کیا ہے، اس وقت تک ہم بزعم خود کامل مسلمان ہوں گے اور درج بالا حقائق کو بے سر وپا سمجھیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3615
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بالشواھد۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 11146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23180»