حدیث نمبر: 3614
عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ، وَتَدُلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهِ فَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ، وَلَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ))، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ، قَالَ: ((فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ؟)) قَالَ: بَلِ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ، قَالَ: ((كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔

وضاحت:
فوائد: … پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3614
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1006، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21816»