حدیث نمبر: 3613
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الْإِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیں یہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کی سواری پر رکھ دینا صدقہ ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ’’سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مریضیا کمزور ہے یا اس کی سواری بغاوت اور شرارت والی ہو، ایسی صورت میں دوسرے مسلمانوں کو اس کا تعاون کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ حقوق العباد کے بارے میں اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ لیکن ہماری صورتحال یہ ہے کہ اگر راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑھی ہے تو ممکن ہو گا کہ پیدل چلنے والے کو خیال آ جائے اور وہ اس چیز کو ہٹا دے، لیکن اگر کسی سائیکل سوار کی اس چیز پر نظر پڑ جاتی ہے تویہ مشکل ہو گا کہ وہ اتر کر یہ نیکی کرے، موٹر سائیکل والے کے لیےیہ عمل اور مشکل ہو جائے گا اور موٹر کار والے کے لیے ناممکن ہو جائے گا، حقیقتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیں دھوکہ ہو گیا ہے اور ان نعمتوں کی وجہ سے ہم نیکیوں والے مزاج سے دور ہو گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3613
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8593»