الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَأَ النَّاسُ، حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ (وَقَالَ مَرَّةً: بَانَ)، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ فَأَعْطَوْا حَتَّى رُؤِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ فَقَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً … … )) فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ۔ (دوسری سند) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی، لیکن لوگوں نے صدقہ کرنے میں تاخیر کی، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر غصے کے آثار نظر آنے لگے، پھر ایک انصاری ایک تھیلی لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر خوشی کے اثرات نمایاں ہونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اچھا طریقہ جاری کرتا ہے، … … ۔ سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔