الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ الْمُهَاجِرُونَ فَأَعْطَوْا، قَالَ: فَأَشْرَقَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْإِشْرَاقَ فِي وَجْنَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ سَنَّ سُنَّةً صَالِحَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ بِهِ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ))۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سونے سے بھری ہوئی ایک تھیلی لئے ہوئے آیا، اس تھیلی نے اس آدمی کی مٹھی کو بھرا ہوا تھا۔ اس نے آ کر کہا: یہ تھیلی اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے بھی کوئی چیز صدقہ کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اوربطورِ صدقہ کچھ دیا، پھر مہاجرین کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی صدقہ کیا،یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس حد تک دمک اٹھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر چمکنے کے آثار نظر آ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اور پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اسے ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی، اسی طرح جوکوئی اسلام میں برا طریقہ رائج کرے اور پھر اس کے بعد اس پرعمل کیا جائے تو اس کو ان تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، جبکہ اِن کے گناہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔