الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3601
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ))، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: ((إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے ایک ایک جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے اور سب ہی اسے اپنی طرف بلائیں گے۔ میں نے کہا: جوڑا خرچ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مثال کے طور پر اگر وہ غلاموں کا مالک ہے تو دو غلام، اگر وہ اونٹوں کا مالک ہے تو دو اونٹ اور اگر وہ گائیوں کا مالک ہے تو دو گائیں۔