حدیث نمبر: 3597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعَتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعَتَاقَةِ الْأَسْوَدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا بہترین صدقہ ہے، وہ چیز صبح بھی اجر کا سبب بنتی ہے اور شام کو بھی، کسی کو اونٹنی عاریۃً دے دینا سرخ رنگ کا غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور کسی کو بکری عاریۃً دے دینا سیاہ رنگ کے غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے۔

وضاحت:
فوائد: … تخریج میں دیئے گئے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے الفاظ کا بالترتیب ترجمہ یہ ہے: ’’سب سے بہترین چیز، جو عاریۃً دی جائے، وہ اونٹنی ہے، جس نے نیا بچہ دیا ہواہو اور زیادہ دودھ والی ہے اور وہ بکری ہے، جو زیادہ دودھ والی ہو اور صبح کو ایک پیالہ دودھ کا دے دیتی ہو اور ایک شام کو۔‘‘ ’’کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو کسی گھر والوں کو ایک اونٹنی بطورِ عاریہ دے دے، جو ایک بڑا پیالہ صبح کو دودھ کا دے دے اور ایک شام کو، اس عمل کا اجر بہت زیادہ ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3597
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبيد الله بن صبيحة في عداد المجھولين، ومثله محمد بن عبد الله، وفليح ليس بذاك، يعتبر به في الشواھد والمتابعات۔ اخرجه البخاري: 2629، بلفظ: ((نعم المنيحة اللقحة الصفي منحة، والشاة الصفي تغدو باناء وتروح بانائ۔)) ومسلم: 1019، 1020، ولفظه في رواية: ((الا رجل يمنح اھل بيت ناقة بغدو يعس وتروح بعس، ان اجرھا لعظيم۔)) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8686»