حدیث نمبر: 3590
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ يَصْرِفُ رَاحِلَتَهُ فِي نَوَاحِي الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ)) حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن کیا مجھے اپنے ضمیروں سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہے کہ کیا ہم نے کسی محتاج کو تلاش کر کے اور اس پر ترس کھا کر اسے بھی سائیکل، موٹر سائیکل، رکشہ یا موٹر کار کا مستحق سمجھا ہو؟! یا اس کے گھر میں بھی راشن پہنچانے کو اپنے لیے باعث ِ اعزاز سمجھا ہو؟! ہر گز نہیں، ممکن ہے کہ ہمارا نظریہ ہییہ ہو کہ اس قسم کا محتاج تو ہمارے معاشرے پایا ہی نہیں جاتا، جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ رزق کی تنگیوں نے لوگوں کے سکون کو اس طرح تباہ کیا ہو کہ وہ مستقل طور پر کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1728، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11313»