الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا باب: نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3589
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّدَقَةِ فَذَكَرَتْ شَيْئًا قَلِيلًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطِ وَلَا تُوعِي، فَيُوعَى عَلَيْكِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ مصیبت ہمارے دور میں بھی بدرجۂ اتم پائی جا رہی ہے کہ لوگوں نے صدقہ و خیرات کی انتہائی معمولی مقدار کو اپنے لیے کافی و شافی سمجھ لیا ہے، اگر کوئی آدمی کسی فقیر کو سو پچاس دے دیتا ہے، وہ کئی دنوں تک اس کو بھولنے نہیں پاتا۔ قارئین کرام! کوئی مانے یا نہ مانے، ابھی تک عملی طور پر ہم یہ عقیدہ اور نظریہ قائم نہ کر سکے کہ سخاوت کی وجہ سے خزانوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی نسلیں اس کی برکت سے مستفید ہوتی رہتی ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کو شاہد بنا کر کہتا ہوں کہ جون ۲۰۱۲ءمیں ایک آدمی سے میری ملاقات ہوئی، چند برس پہلے اس کے پاس پانچ کروڑ روپیہ اور بہترین کاروبار موجود تھا، لیکن۲۵ جون کو ایک ہزار روپے کی بھیک مانگ کر اسے دیا گیا، تاکہ وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، جبکہ اس کا دعوییہ ہے کہ اس کو کوئی سمجھ آئی کہ اس کی اتنی بھاری رقم کہاں دفن ہو گئی۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کنجوسی ہونے لگ جائے تو بندہ کرتا تو کچھ اور ہے، لیکن ہوتا کچھ اور ہے، آدمی اپنے لیے خود گڑھے کھودنے لگ جاتا ہے۔ العیاذ باللہ