حدیث نمبر: 3588
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: ((كُلُّهَا قَدْ بَقِيَ إِلَّا كَتِفُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور تھا کہ بندے کا حقیقی خزانہ وہ ہے، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔ سبحان اللہ! جو گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا، وہ اللہ تعالیٰ کے بینک میں جمع ہو گیا، جس میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ ایک کھجور، پہاڑ کی مانند بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 2470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24744»