الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا باب: نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟)) قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ: ((اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ))۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کواس کے وارث کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھریاد رکھو کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہے، تمہارا مال تو صرف وہ ہے، جسے تم نے خرچ کرکے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے چھوڑا، وہ تمہارے وارث کا مال ہے۔