الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا باب: نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3576
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ فَلْيَتَصَدَّقْ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (۳۵۷۶) (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ صدقہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور جسے وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔
وضاحت:
فوائد: … اچھی بات سے مراد یہ ہے کہ لوگوں سے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق سے پیش آنا چاہیے اور اس معاملے میں معرفت اور عدم معرفت کی بنا پر فرق نہیں کرنا چاہیے۔