حدیث نمبر: 3575
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ عَمَّنْ أَشَامَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ))، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ گفتگو کرے گا، اس حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جب وہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہو گا، پھر جب وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو اسے اُدھر بھی وہی کچھ نظر آئے گا، جو وہ آگے بھیج چکا ہو گا، جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اُدھر اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس آدمی میں اپنے چہرے کو آگ سے بچانے کیلئے جو استطاعت ہے، وہ استعمال کر دے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔

وضاحت:
فوائد: … صدقہ و خیرات کا تعلق مالداری سے نہیں ہے، سخاوت والے مزاج سے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3575
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6539، 7512، ومسلم: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19590»