الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْحَثِّ عَلَيْهَا وَفَضْلِهَا باب: نفلی صدقات کی ترغیب اور فضیلت کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ {إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا}، وَقَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي فِي آخِرِ الْحَشْرِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ ثَوْبِهِ، مِنْ صَاعِ بُرِّهِ، مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَعْنِي كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ))۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پاؤں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تنگ دستی کی یہ صورتحال دیکھی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والی یہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،( وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہو گی۔