(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى، وَقَالَ مَرَّةً: إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، فَقَالَ: ((أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ))، وَتَقَدَّمَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (دوسری سند) سابق حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں یہ صراحت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے عید گاہ کو جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے: نماز عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے۔سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے، اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں کو خطبہ دیا اورفرمایا: تم ہر دو افراد کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو۔ نیز سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا۔
صدقۂ فطر کو نمازِ عید سے مؤخر نہیں کرنا چاہیے، بہرحال اہل علم کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ تأخیر ہو جانے کی صورت میں اس کا وجوب ساقط نہیں ہو گا، بلکہ ادائیگی تک اس کی صورت قرضے والے رہے گی۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ابتدائے رمضان سے ہی بھکاری قسم کے یا حقیقی مسکین لوگوں کو بطورِ صدقۂ فطر پانچ دس دس روپے دینا شروع کر دیتے ہیں،یہ انتہائی غیر مناسب بات ہے، جس کی بنیاد بخل اور کنجوسی ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ دورانِ رمضان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح کثرت سے صدقہ کیا کریں اور عید والے دن نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کیا کریں۔ فطرانہ کی رقم کے لیے معاشرے کے فقراء و مساکین کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔