الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِهَا وَأَصْنَافِهَا باب: صدقۂ فطر کی مقدار اور اجناس کا بیان
حدیث نمبر: 3564
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ التَّمْرُ، فَأَعْطَى الشَّعِيرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔