الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِقْدَارِهَا وَأَصْنَافِهَا باب: صدقۂ فطر کی مقدار اور اجناس کا بیان
حدیث نمبر: 3562
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤَدِّي صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَتِ السَّمْرَاءُ فَرَأَى أَنَّ مُدًّا يَعْدِلُ مُدَّيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔