حدیث نمبر: 3561
عَنْ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَدَقَةِ الْفَطْرِ فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، ثُمَّ نَزَلَتِ الزَّكَاةُ فَلَمْ نُنْهَ عَنْهَا وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ فَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … صدقۂ فطر اب بھی مشروع ہے، زکوۃ کی فرضیت سے اس کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں پڑا، زکوۃ کے حکم کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقۂ فطر کے بارے میں از سرِ نو حکم نہ دینا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 5/ 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24341»